
Question:
Assalamu alaykum,
I am interested in working for a pharmaceutical company and would like to know the Hanafi ruling.
Pharmaceutical companies primarily earn revenue from selling medicines. Practically all capsule medicines contain porcine gelatine. Other medicines may also contain haram ingredients such as glycerol, vanilla extract… There may also be cross-contamination concerns during manufacturing where the same equipment or facilities are used for both medicines containing haram ingredients and other medicines. Therefore, a significant proportion of pharmaceutical companies’ revenue may come from medicines that are haram to sell
My questions are therefore:
1. Am I required to investigate the company’s financial reports and products to determine whether the majority of its revenue comes from halal or haram medicines? Considering pharmaceutical companies sell hundreds of products and do not always disclose the revenue and ingredients of every product
2. If the answer to above is yes, if a pharma company is reasonably determined to derive more than 50% of its revenue from haram, can I still work on a clearly halal project such as a medical device?
3. Would a strategic/project-management role involving a medicine containing a haram ingredient be impermissible? I understand that selling or marketing the product could be problematic, but what about R&D, clinical studies, regulatory work, or other activities involved in developing the medicine?
JazakAllah Khayrun for your help.
Answer:
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.
As-salāmu ‘alaykum wa-raḥmatullāhi wa-barakātuh.
Regarding the question of working for a pharmaceutical company: a person is not required to conduct a detailed investigation into the company’s revenue streams. Obtaining a reasonable estimate of the proportion of halal to haram income is sufficient[i].
If it appears that most of the company’s revenue is from haram sources, it remains permissible for an individual to work on a clearly halal project, and this does not affect the validity of his own earnings. Not to mention that most the shareholders of the company would not be Muslim, therefore they are not accountable for the selling of items containing alcohol or gelatine[ii]. In addition to this, the ruling is made less severe due to the aspect of medicine being a need [iii].
As for roles connected to manufacturing medicines which are haram in their majority, one should avoid such projects as much as possible, regardless of the total revenue proportion of halal and haram. If a person does end up working on such a project, the work may be considered makruh, but the income remains valid [iv]. It is recommended that such a person give some portion of their wage in sadaqah[v].On the other hand if only a minority of the work on the medicine involves haram ingredients, then working on such a project would be permissible [vi].
And Allah Ta’āla Knows Best
Answered by: Jameel Shah
Checked & Approved By:
(Mufti) Muadh Chati
DISCLAIMER: AI was NOT used in the writing of any part of this fatwa
[i] أما إذا كان الحلالُ مخلوطاً بالحرام دون تمييزِ أحدهما بالآخر، فإنّه لا عبرةَ بالغلبة في هذه الحالة فى مذهب الحنفيّة، بل يحلّ الانتفاعُ من المخلوط بقدر الحلال، سواءً أكان الحلالُ قليلاً أم كثيراً. ويدلّ على ذلك ما يأتى: أوّلاً: إنّ الضميرَ المنصوبَ فى قول الدّرّ المختار: “ضمِنه ومِلْكَه” يرجعُ إلى المغصوب، لأنّه محلُّ الضّمان والملِك الجديد. أمّا مالُه الحلال، فلا هُو يضمَنه، ولا يحْدُثُ له فيه ملكٌ جديد، وقولُه “بلا حلّ انتفاع” متعلّقٌ بالضّمان والملِك الجديد، وليس متعلّقاً بماله الذى لا يضمَنُه للمغصوب منه، وهو مملوكٌ له قبل الخلط. فظهر أنّ عدم حلّ الانتفاع متعلّقٌ بالحصّة المغصوبة فقط [فقه البيوع للمفتي تقي عثماني جلد ٢ صحفة ١٠٣۲]
غالب مال المهدي إن حلالا لا بأس بقبول هديته وأكل ماله ما لم يتعين أنه من حرام
]الفتاوى البزازية للكردي البزازي (d.827 AH) (478/2) دار الكتب العلمية[
الثامنة : إذا كان غالب مال المهدي حلالا،ً فلا بأس بقبول هديته وأكل ماله ما لم يتبين أنه من حرام وإن كان غالب ماله الحرام لا يقبلها ولا يأكل إلا إذا قال إنه حلال ورثه أو استقرضه. [الاشباہ والنظائر ص۹۶ ]
[ii] فقال: والكفار مخاطبون بالأمر بالإيمان، وبالمشروع من العقوبات بالمعاملات … وأما المعاملات فهي دائرة بيننا وبينهم، فينبغي أن نتعامل معهم حسب ما تعاملنا بيننا في البيع والشراء والإجارة وغيرها سوى الخمر والخنزير، فإنهما مباحان لهم لا لنا، وإليه أشار عليها بقوله: “الخمر لهم كالخل لنا، والخنزير لهم كالشاة لنا،
[نور الانوار ج۱ ص۱۶۵مکتبة البشری]
اس مسئلہ کا اصل مدار اس پر ہے کہ کفار مخاطب بالفروع ہیں یا نہیں اور اس میں فقہاء کے ما بین اختلاف ہے بعض علماء کی رائی یہ ہے کہ وہ ابتداء فقط مخاطب بالایمان والعقوبات ہیں مخاطب بالمعاملات نہیں ہیں جب کہ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ کفار مخاطب بالمعاملات ہیں بہر حال کفار سود کی رقم کے مالک ہیں یہی ظاہر ہوتا ہے۔
[فتاوی دار العلوم زکریا ج۵ ص۶۰۰ زمزم پبلشرز]
ولا خلاف ان الخطاب بالمعاملات یتناولهم ایضا لان المطلوب بها معنی دنیوی وذلک بهم الیق فقد آثروا الدنیا علی الآخرة ولانهم ملتزمون لذلک فعقد الذمة یقصد به التزام احکام المسلمین فیما یرجع الی المعاملات فیثبت فی حق المسلمین لوجود الالتزام الا فیما یعلم لقیام الدلیل انهم غیر ملتزمین له
[اصول السرخسی ج۱ ص۷۳ مکتبة ابن عابدین ]
المال الحرام هو كل ما حرّم الشرع دخوله في ملك المسلم
] أحكام المال الحرام وضوابط الإنتفاع والتصرف به في الفقه الإسلامي صفحة ٣٩[
الكافر مكلف بالفروع عند الشافعية ومشايخنا العراقيين خلافا للحنفية البخاريين وقيل للعتزلة أيضا وقيل مكلف بالهني فقط وأما التكليف بالعقوبات والمعاملات فإتفاق بيننا وبينهم بعقد الذمة
]فواتح الرحموت (108/1) دار إحياء التراث[
دار الحرب میں حربیوں سے عقود فاسدہ کے ذرییعہ مال حاصل کرنا جائز ہہے یہ قول اگر چہ عام حالات میں مفتی بہ نہیں لیکن ایسي حاجت کے موقع پر اس کے اوپر فتوی دینے کي گنجائش معلوم ہوتي ہے-
]اسلام اور جدید معاشي مسايل (317/3) ادارہ اسلامیات[
سوال: حرام کاروبار والے غیر مسلم کے ساتھ معاملات کا حکم؟
جواب: جس غیر مسلم کی کمائی سوال میں درج شدہ معاملات کی ہو اس کے ساتھ مسلمان کا صحیح لین دین جائز ہے
]فتاوی دار العلوم زکریا (241/5) زمزم پبلشرز[
سوال: کفار جو مال حرام طریقے سے حاصل کریں اس کا حکم؟ جواب:
1) امام زفر کے نزدیک تمام خطابات عامہ واردہ فی الشرع درباۂ معاملات کفار کو بھی شامل ہیں خواہ وہ حربی ہوں یا ذمی اور عموم خطاب کی وجہ سے حکم بھی عموما ثابت ہوگا لہذا جو معاملات کفار اہل حرب واہل ذمہ خلاف شرع کریں گے- ان پر حکم فساد لگیا جائیگا- گو اہل حرب سے بوجہ عدم ولایت واہل ذمۃ سے بوجہ معاہدہ کے تعرض نہ کیا جاۓ گا
2) صاحبین کے نزدیک اہل حرب کے معاملات خلاف شرع ہیں ہر ایک پر حکم فساد نہ لگایا جاۓ گا کیونکہ انہوں نے احکام اسلام کا التزام نہیں کیا گویا ثبوت حکم کے لۓ ان کے نزدیک عموم خطاب کافي نہیں بلکہ التزام بھي شرط ہے اور وہ اہل حرب میں مفقود ہے لیکن اہل ذمہ کے جو معاملات اسلام کے مسایل متفق علیہا کے خلاف ہوں گے ان پر حکم فساد لگایا جائیگا کیونکہ وہ معاملات میں احکام اسلام کا التزام کرچکے ہیں
3) امام اعظم کے نزدیک اہل ذمہ کے بھي معاملات خلاف شرع پر حکم فساد نہ لگیا جاۓ گا بشرطیکہ وہ معاملات خود ان کے دین کے موافق ہوں کیونکہ اہل ذمہ نے معاملات میں احکام اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے خلاف میں نہیں کیا-
ہاں اگر کسي معاملہ کي بابت معاہدہ ہي میں ان سے شرط کر لي جاۓ اس کا التزام ان کي طرف سے ہوگا- باقي معاملات شرعیۃ جو ان کے معتقدات کے موافق نہیں اور نہ ان سے ان کے بارے میں کوئي شرط کي گئي ہے- ان میں اہل ذمہ کي طرف سے التزام نہیں پایا گیا لہذا ایسے معاملات جب وہ اپنے مذہب کے مووافق کریں گے تو ان کو صحیح مانا جائيگا اور حکم فساد نہ دیا جائيگا اس تفصیل سے شبہات مذکورہ سوال کا جواب ظاہر ہوگیا- اشکال کا منشہ یہ تھا کہ جب کفار مخاطب بالعقوبات ومعاملات ہیں تو اگر وہ کوئي معاملہ خلاف شرع کرکے روپیہ حاصل کریں اس کو حلال نہ کہنا چاہۓبلکہ حرام کہنا چاہۓ جواب کا حاصل یہ ہے کہ کفار مخاطب باالفروع فی العقوبات والمعاملات اگر چہ ہیں لیکن لیکن حکم بالحرمۃ والفساد کے لۓ خطاب عام کافي نہیں بلکہ التزام بھي شرط ہے اہل حرب نے تو احکام اسلام کا التزام بلکل نہیں کیا نہ اپنے معتقد کے موافق ہیں اور نہ مخالف میں لہذا وہ تو جس طرح بھي روپیہ کمائيں خواہ رباء سے خواہ غصب سے خواہ بیوع باطلہ وفاسدہ سے خواہ اپنے مذہب کے موافق خواہ مخالف طریق سے بہر صورت وہ روپیہ وغیرہ ان کي ملک میں داخل ہوجائيگا اور مسلمان کو تنخواہ میں لینا اس کا جائز ہے اور اہل ذمہ نے احکام اسلام کا التزام اپنے معتقدات کے موافقات میں کیا ہے- مخالفات میں نہیں کیا- سوا ان امور کے جن کي شرط ان سے کر لي جاۓ- پس جو عقد اہل ذمہ اپنے دین کے موافق کریں وشرائط معاہدہ کے بھي خلاف نہ ہو اس میں حکم صحت دیا جائیگا گو وہ شریعت کے خلاف ہو البتہ جو عقد انکے دین کے بھي خلاف ہو یا شرائط معاہدہ کے خلاف ہو اس میں حکم فساد دیا جائیگا
]امداد الاحکام (390/4) مکتبہ دار العلوم کراچي[
کفار ابتداء صرف ایمان کے اور حدود وعقوبات مشروعۃ کے مخاطب ہوتے ہیں باقي معاملات وجزئي احکامات کے مخاطب بعد میں ہوتے ہیں اس لۓ ان کے آپس کے معاملات بر قرار اور نافذ رکھے جاتے ہیں جب تک کہ وہ حرام لعینہ وقبیح خداع چوري ڈاکہ وغیرہ کا ارتکاب نہ کریں ۔ ۔ ۔ پس یہي حکم وحال یہاں بھي ہوگا کہ محکمہ جس کے اصحاب حل وعقد خالص غیر مسلم ہوں یا مشترک ہوتے ہوں مگر اقتدار اعلی غیر مسلم کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنے طور پر سودي کاروبار نفع حاصل کرکے کوئي رقم جمع کرے اور بطور تبرع کسي مسلمان ملازم کو دے تو اس کا لینا جائز رہے گا اور بمد انعام داخل ہوکر طیب وحلال شمار ہوگا ۔ ۔ ۔ اور اگر اس کا ظن غالب ہوجاۓ کہ ملازم اس رقم کو نہیں لے گا تو محکمہ اس رقم کو کسي غیر مسلم مذہبي ادارہ میں دان کھاتہ میں دیدیگا تو پھر یہ نہ لینا شرعا صحیح ومعتبر نہ ہوگا
]منتخبات نظام الفتاوی (208/1) مکتبہ رحمانیہ[
بینک کے پاس سودي رقم نہ چھڑني چاہۓ کیونکہ وہ مسیحي مشنري کو دي جاتي ہے اور تبلیغ مسیحیت میں خرچ ہوتي ہے اور جمع کرنے والے کا روپیہ اس کا سبب ہوتا ہے اور یہ بھي اس گناہ میں شریک ہوتا ہے پس اس سود کي رقم کو لے کر تبلیغ واشاعت دین میں خرچ کیا جاۓ
]فتاوی رحیمیۃ (257/9) زمزم پبلشرز[
[iii] وجوزه في النهاية بمحرم إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء ولم يجد مباحا يقوم مقامه قلت وفي البزازية ومعنى قوله عليه الصلاة والسلام “إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم” نفي الحرمة عند العلم بالشفاء دل عليه جواز شربه لإزالة العطش اهـ وقد قدمناه
(قوله للتداوي) أي من مرض أو هزال مؤد إليه لا لنفع ظاهر كالتقوي على الجماع كما قدمناه ولا للسمن كما في العناية (قوله ولو للرجل) الأولى ولو للمرأة (قوله وجوزه في النهاية إلخ) ونصه وفي التهذيب يجوز للعليل شرب البول والدم والميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه وإن قال الطبيب يتعجل شفاؤك به فيه وجهان وهل يجوز شرب القليل من الخمر للتداوي؟ فيه وجهان كذا ذكره الإمام التمرتاشي اهـ قال في الدر المنتقى بعد نقله ما في النهاية وأقره في المنح وغيرها وقدمناه في الطهارة والرضاع أن المذهب خلافه اهـ (قوله وفي البزازية إلخ) ذكره في النهاية عن الذخيرة أيضا (قوله نفي الحرمة عند العلم بالشفاء) أي حيث لم يقم غيره مقامه كما مر وحاصل المعنى حينئذ أن الله تعالى أذن لكم بالتداوي وجعل لكل داء دواء فإذا كان في ذلك الدواء شيء محرم وعلمتم به الشفاء فقد زالت حرمة استعماله لأنه تعالى لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
[رد المحتار لابن عابدین]
خلاصہ یہ ہے کہ کسی حرام چیز کا حلال ہونا تین شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اول: یہ کہ حالتِ اضطرار کی ہو کہ حرام کے استعمال نہ کرنے میں جان کا خطرہ ہے۔ دوسرے: یہ خطرہ محض موہوم نہ ہو بلکہ کسی معتمد حکیم یا ڈاکٹر کے کہنے کی بناء پر عادةً یقینی جیسا ہو۔ تیسرے: یہ کہ اس حرام کے استعمال سے جان بچ جانا بھی کسی معتمد حکیم یا ڈاکٹر کی تجویز سے عادةً یقینی ہو۔ یہ سب شرائط قرآن کریم ہی کے ارشادات سے مستفاد ہیں۔ ان تینوں شرطوں کے ساتھ باتفاقِ فقہائے امت استعمالِ حرام جائز ہو جاتا ہے۔
[جواہر الفقہ، جلد ہفتم، صفحہ۳۷]
[iv] أما إذا لم يقصد ذلك، وكان البيعُ سبباً للمعصية، فلا يحرمُ العقد، ولكن إذا كان سبباً محرّكاً، فالبيعُ حرام، وإن لم يكن محرّكاً، وكان سبباً قريباً بحيثُ يُستخدم في المعصية في حالتها الرّاهنة، ولا يحتاج إلى صنعةٍ جديدة من الفاعل، كُرِه تحريماً، وإلّا فتنزيها۔۔۔۔أمّا إذا بيع البناءُ أو أُجِّر لغرضٍ آخر للبنك، مثل التّخزين وغيره، فلا يدخل في ذلك الحكم، وليس سبباً قريباً للمعصية، فينبغي أن يجوز مع الكراهة تنزيهاً.
[فقه البيوع للمفتي تقي عثماني جلد ۱ صحفة ۱۹۳،۱۹۴]
ثم السبب القريب أيضاً على قسمين : سبب محرك وباعث على المعصية بحيث لولاه لما أقدم الفاعل على هذه المعصية ، كسب آلهة الكفار فإنه سبب محرك وباعث لسب الإله الحق جل شأنه . وسبب ليس كذلك ولكنه يعين المريد المعصية ويوصله إلى ما يهواه كإحضار الخمر لمن يريد شربه وإعطاء السيف بيد من يريد قتلا بغير حق . فالقسم الأول حرام بنص القرآن ، والثاني إن كان بحيث يعمل به المعصية من دون إحداث صنعة منه يلتحق به يكره تحريماً ، وإن كان يحتاج إلى عمل وصنعة كره تنزيهاً ، فبيع السلاح من أهل الفتنة والفساد سبب محرك لإيقاع الفتنة فحرام باتفاق الفقهاء ، وبيع الحديد وأمثاله مما يصنع منه السلاح كره تنزيها كما صرح به الفقهاء
[احكام القران ج ٣ ص٧٩ -الإستبانة لمعنى التسبب والاعانة-]
تضح من المسائل المذكورة أن ضابط الاعانة علی الحرام علی مذهب ابی حنيفة رضی الله عنه، هو:أن ما قامت المعصية بعينه فمكروه كبيع الخمر والمزامیز . ومعنی بعينه: أن عينه منكرا ً لا تقبل الا الفعل المحظور۔ وأن ما لم تقم المعصية بعينه فغیر مكروه، ويطيب أجره، ومعنی ذلك؛ أن عينه ليست منكرا ً ، بأن المقصود األصىلي منها ليس المعصية، وإنما هي أمر عارض يحصل بفعل فاعل مختار فتنقطع نسبته عن البائع أو غیرہ أما فی الاعمال فيكفي فيما لم تقم المعصية بعينه أن يتوسط فعل فاعل مختار، كما في رَعی الخنازير وتعمیر الكنيسة۔ [خلاصة الكلام فی مسألة الاعانة علی الحرام ، مركز العلماء للدراسات وتقنية المعلومات ۳۳]
اگر زِیری خشک دواؤں اور ڈرگ گولیوں میں الکحل عموماً شامل نہیں ہوتا: لہٰذا اس کے بیچنے میں تو شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے، اور پینے کی دواؤں میں جو الکحل ملا رہتا ہے، اس کے بارے میں جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ الکحل انگور یا کھجور وغیرہ سے بنایا گیا ہے، اس وقت اس کی حرمت کا ف’تویٰ نہیں دیا جائے گا! لہٰذا اگر پینے کی دواؤں کی تقدیر شرعاً فی الجملہ جائز ہے۔
نوٹ: عصر حاضر کے مشہور محقق عالم دین حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ کی تحقیق کے مطابق موجودہ دور میں جو الکحل ادویہ عطرات اور دیگر اشیاء میں شامل کیا جاتا ہے، وہ انگور، کھجور اور شراب سے نہیں بنایا جاتا بلکہ پھلوں، سبزیوں، اناج، غلّہ، لکڑی کی چھال اور گنے کے رس وغیرہ سے مصنوعی طریقے سے بنایا جاتا ہے …..لہٰذا الکحل ملی ہوئی دواؤں کو فروخت کرنا جائز ہے، جب کہ ان دواؤں میں الکحل کی ملاوٹ مدارک سے کم ہو۔
[کتاب النوازل ج۱۰ ص۴۳۴]
وإنما كرہ البيعُ مِن أهلِ الفِتْنَةِ؛ لئَلَّا يَلْزَمَ الإعانةُ على المعصية، قال الله تعالى: {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} المائدة. وليس هذا كبيع العصيرِ ممنْ يجْعَلُه خمراً؛ حيثُ لا يُكْرَهُ؛ لأن العصير ليس بآلةٍ للمعصية، وإنما يَصِيرُ آلةً لها إذا تبدل وصار خمرا. ]غاية البيان: 8/624 ط. دار الضياء[
[v] والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحب [رد المحتار لابن عابدين ت١٢٥٢هـ: ٣٠١/٧، دار الكتب العلمية]
ويردونه على أربابه إن عرفوهم وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق [البحر الرائق لمحمد بن حسين ت١١٣٨هـ : ٤٦٩/٨، دار الكتب العلمية]
[vi] وإنما افترق الغالب من ذلك وغيره؛ لأن الغالب يقع عليه التحري إذا كان غالباً، وهو حلال، وفي ذلك وجوه كثيرة من الفقه منها أن رجلاً لو كان له زيت فاختلط به بعض وَدَكِ ميتة أو شحم خنزير إلا أن الزيت هو الغالب على ذلك لم نر بأساً بأن يستصبح به، وأن يدبغ به الجلود ثم يغسله، وأن يبيعه ويبين عيبه. ولو كان وَدَكُ الميتة أو شحم الخنزير هو الغالب على الزيت أو كانا سواء لا يغلب واحد منهما على صاحبه لم ينبغ أن يُنتفع بشيء منه، ولا يباع ولا يُستصبح به ولا يُدهن به جلد ولا غير ذلك؛ لأن وَدَك الميتة وشحم الخنزير إذا كانا الغالبين على الزيت فكأنه لا زيت معهما، وكان ذلك كله ميتة وشحم الخنزير، ولا ينبغي الانتفاع بذلك على حال
[الاصل للامام محمد بن الحسن الشيبانى ج ٢ ص٢٢١]
وَأَمَّا فِي حَالَةِ الِاخْتِيَارِ فَإِنْ كَانَتْ الْغَلَبَةُ لِلْحَلَالِ بِأَنْ كَانَتْ الْمَسَالِيخُ ثَلَاثَةً أَحَدُهَا مَيْتَةٌ جَازَ لَهُ التَّحَرِّي أَيْضًا لِأَنَّ الْحَلَالَ هُوَ الْغَالِبُ وَالْحُكْمُ لِلْغَالِبِ فَبِهَذَا الطَّرِيقِ جَازَ لَهُ التَّنَاوُلُ مِنْهَا۔۔۔ فَأَمَّا إذَا كَانَ الْغَالِبُ هُوَ الزَّيْتُ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنْهُ فِي حَالَةِ الِاخْتِيَارِ لِأَنَّ وَدَكَ الْمَيْتَةِ وَإِنْ كَانَ مَغْلُوبًا مُسْتَهْلَكًا حُكْمًا فَهُوَ مَوْجُودٌ فِي هَذَا الْمَحَلِّ حَقِيقَةً، وَقَدْ تَعَذَّرَ تَمْيِيزُ الْحَلَالِ مِنْ الْحَرَامِ، وَلَا يُمْكِنُهُ أَنْ يَتَنَاوَلَ جُزْءًا مِنْ الْحَلَالِ إلَّا بِتَنَاوُلِ جُزْءٍ مِنْ الْحَرَامِ وَهُوَ مَمْنُوعٌ شَرْعًا مِنْ تَنَاوُلِ الْحَرَامِ، وَيَجُوزُ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا مِنْ حَيْثُ الِاسْتِصْبَاحُ وَدَبْغُ الْجُلُودِ بِهَا فَإِنَّ الْغَالِبَ هُوَ الْحَلَالُ فَالِانْتِفَاعُ إنَّمَا يُلَاقِي الْحَلَالَ مَقْصُودًا
[المبسوط للامام السرخسی ج۱۰ ص۲۰۳ ، دار الکتب العلمیة بیروت]








